ملزم سہیل ایاز کو سینٹرل جیل اڈیالہ سے پولیس کی کڑی نگرانی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہانگیر علی گوندل کی عدالت میں لایا گیا۔
عدالت نے استغاثہ کی جانب سے سہیل ایاز کے خلاف 3 مقدمات میں عائد الزامات درست ثابت ہونے پر دفعہ 367 'اے' کے تحت 3 مرتبہ سزائے موت کی سزا سنا دی۔
ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 377 کا جرم ثابت ہونے پر الگ، الگ تین مرتبہ عمر قید کی سزا اور مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم بھی سنایا گیا۔
مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سہیل ایاز کو 3 بار عمر قید بھی سنائی جبکہ 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، کیس میں شریک مجرم خرم کو بھی 7 سال قید کی سنائی گئی ہے۔
سہیل ایاز کو منشیات کے مقدمے میں ساڑھے 5 سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
عدالت نے سہیل ایاز کے ساتھی ملزم خرم عرف کالو کو 7 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔
فیصلے کے بعد ملزم سہیل ایاز کو پولیس کی سخت نگرانی میں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں راولپنڈی پولیس نے بچوں سے بدفعلی کر کے ان کی ویڈیو بنانے کے الزام میں سہیل ایاز کو بھی گرفتار کیا تھا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں