پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاس آؤٹ ہونے والے جوانوں کو زندگی کے اس یاد گار دِن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، دوست ممالک کے کیڈٹس کو بھی مُبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنت سے اپنی ٹریننگ کو مکمل کیا، آج کا دِن آپ ایک ایسی فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو پُوری دُنیا میں اپنی پیشہ وارانہ اور حربی صلاحیتوں کے لئے جانی اور پِہچانی جاتی ہے، آپ نے اپنے آپ کو ایک عظیم،مقدس اور انتہائی چیلنجنگ پروفیشن کے اہل ثابت کیا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی کسی اور کیلئے جوابدہ نہیں، لیکن میں اسے اعزاز سمجھتا ہو ں کہ ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں، لہذا تمام کامیابیوں اور چیلنجز کے باوجود جب بھی وطن اور قوم کو ہماری ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ ہماری قوت ہمارے عوام، ہمارا آئین جمہوریت اور وہ جمہوری اقدار ہیں جن کی پیروی ہمارے عوام کرتے ہیں، اس لیے ہمیں ان اقدار کا تحفظ کرنا ہے، ہمارے اقدامات آئین اور عوام کے اعتماد کے مطابق ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ عوام، دستور، دستوری روایات اور عہد ِ وفا ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے۔ آئین اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے رہنما ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے نہ صرف دہشت گردی کو شِکست دی، بلکہ فروری2019 میں اپنے سے 5 گنا بڑے دُشمن کو ہزیمت سے دوچار کیا، پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے، آپ چاہے آفیسر ہوں یاجوان، والنٹیر انڈکشن سے لے کر، تمام اکائیوں کی تناسب سے نمائندگی تک،آپ میں مدرسہ طالب علم سے کر پبلک اسکول تک، ایک عام آدمی کے بیٹے سے لے کر متوسط و امیر کے بیٹے تک اور سب سے بڑھ کر شہیدوں کے وارث دراصل پاکستان کی خوبصورت نمائندگی کر رہے ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ دُشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے دُشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہیں۔ پاکستان کوہائبرڈ وار کا سا منا ہے۔ ہائبرڈ وار کا ہدف عوام، میدانِ جنگ اور انسانی ذہن ہیں۔ ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے۔
پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے متحد ہوکر تمام صلاحیتیں بروئے کارلاکرپاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ سفر بہت مشکل تھا، لیکن اطمینان یہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں۔ ہماری تباہی کے منصوبے بنانے والے دشمن مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آپ پر فرض ہے کہ مکمل وَفاداری اور بے مثال لگن سے اُن کے اعتماد پر ہمیشہ پُورا اُتریں۔ قوم کا افواج پر اعتماد اور رشتہ شہیدوں اور غازیوں کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے جائیں۔ نظم و ضبط، فرائض کی بجاآوری اور غیر جانب داری آپ کا ہدف ہونا چاہیے۔
انہوں نے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پاکستان کی سلامتی، سیکیورٹی، خوشحالی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا جبکہ آپ کے کندھوں پر عظیم قوم کا آپ سے محبت اور ذمہ داری کا ایک منفرد انداز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، سپاہ گری مشکل راستہ ہے جس پر چلنا آسان نہیں، اس راستے میں اپنے آپ کو وقف اور ڈلیور کرنا پڑتا ہے، پاکستان میں کوئی بھی کسی اور کے کیے کیلئے جوابدہ نہیں، اعزاز سمجھتا ہوں کہ قوم کے سامنے جوابدہ ادارے کے طور پر حاضر رہتے ہیں اور جب بھی قوم کو ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لیے اپنا آپ پیش کر دیا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں