گزشتہ ہفتے کے آخر میں جاری کیے گئے ایک فیصلے میں امریکی ضلعی جج ٹموتھی کیلی نے کہا کہ انہوں نے خصوصی ماہر کی تجویز کو اپنایا جس میں کہا گیا تھا کہ رابرٹ لیونسن کے اہل خانہ کو ہرجانے کی ادائیگی کی مد میں 10 کروڑ 7 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی جائے، جج نے 1.3 ارب ڈالر کے جرمانہ بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اپنے بیان میں لیونسن کے اہل خانہ نے جج کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی محب وطن رابرٹ لیونسن کے لیے انصاف کے حصول کا پہلا قدم ہے جسے اغوا کیا گیا تھا اور 13 سال سے زائد عرصے تک انہیں ناقابل یقین تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی عدالت کے فیصلے پر امریکا میں موجود ایرانی حکام نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے ۔ قبل ازیں رابرٹ لیونسن کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایف بی آئی ایجنٹ کو ایرانی ایجنسیوں نے حراست میں لینے کے بعد قتل کردیا ہے۔
دوسری جانب ایران ہمیشہ سے یہی موقف دہراتا آیا ہے کہ ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن ایران سے کئی برس قبل اپنے گھر کے لیے امریکا لوٹ گئے تھے اور وہ کبھی کسی ایرانی ایجنسی کے تحویل میں نہیں رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رابرٹ لیونسن 2007 میں براستہ دبئی ایران کے زیر انتظام جزیرے ’کش‘ پہنچے تھے جہاں وہ داؤ صلاح الدین سے ملے جو عسکری پسند امریکی نژاد تھا اور واشنگٹن میں ایرانی سفیر کے قتل کے الزام پر فرار ہوکر ایران پہنچا تھا جس کے چند ماہ رابرٹ لیونسن لاپتہ ہوگئے تھے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں