وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر سے مرحلہ وار کھولنے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے ہائر ایجوکیشن ادارے، کالجز اور جامعات کھل جائیں گی جبکہ اس کے علاوہ اسکولوں کی نویں اور دسویں کلاسز کھولنے کی بھی اجازت ہوگی۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر(این سی او سی) نے تعلیمی ادارے کھولنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

طلبہ و تعلیمی اداروں کے لیے اہم تجاویز
کلاس رومز یا تنگ جگہ پر طلبہ کی تعداد کو کم رکھا جائے۔
طلبہ کے درمیان فاصلے کو برقرار رکھا جائے۔
طلبہ کی تعداد کو تقسیم کرکے بلایا جائے۔
ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے۔
بیمار طلبہ، اساتذہ اور دیگر افراد تعلیمی اداروں میں نہ آئیں۔
ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

دوران پریس کانفرنس شفقت محمود نے کہا کہ آج اس لیے بھی خوشی کا دن ہے کہ

ہم اس انتظار میں تھے کہ حالات بہتر ہوں اور تعلیمی ادارے کھلنے کا دن آسکے۔

پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں اور اس سے اوپر کی تمام کلاسز بشمول کالج اور یونی ورسٹی کو کھولا جائے گا۔ بڑی جماعتوں کی کلاسز کھولنے کے بعد کورونا وائرس کے صورتحال اور کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔

سیکنڈری

صورتحال کا جائزہ لینے کے ایک ہفتے بعد دوسرے مرحلے میں 23 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت میں تدریسی عمل کی اجازت دی جائے گی۔

پرائمری

تیسرے اور آخری مرحلے میں 30 ستمبر سے پہلی سے پانچویں تک کی کلاسز کو کھولا جائے۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور طلبا کو ماسک لازمی پہننا ہوگا۔

اجلاس کی سفارشارت این سی او سی (قومی رابطہ کمیٹی) کو ارسال کی گئیں جس نے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلوں کی حتمی منظوری دے دی۔

اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر گفتگو ہوئی۔

اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے کے ساتھ ساتھ  ان سے متعلق ایس او پیز کو حتمی شکل دی گئی ہے۔



Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top