ریاض: سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی قتل کیس میں نامزد 8 میں 5 ملزمان کو 20 سال اور 3 کو سات سے دس سال قید کی سزائیں سناتے ہوئے مقدمے کو ختم کر دیا ہے۔

سعودی ترجمان پروسیکیوٹر جنرل کے مطابق دارالحکومت ریاض کی کریمنل عدالت کی جانب سے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزمان کو سنائی گئی سزائیں حتمی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق استنبول کے سعودی سفارت خانے میں لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس کی سماعت مقامی عدالت میں ہوئی۔ جمال خاشقجی قتل کیس میں 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں 8 ملزمان پر مقدمہ چلا تھا۔

فیصلے کے مکمل مندرجات منظر عام پر نہیں آئے ہیں اور ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سزا حتمی ہے جسے چیلنج نہیں کیا جا سکے گا تاہم سعوی قوانین کے تحت مقتول کے اہل خانہ ملزمان کو معاف کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

مقتول صحافی کے بیٹے صلاح خاشقجی نے رواں برس ماہ رمضان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا تھا کہ یہ مقدس مہینہ درگزر کرنے کا مہینہ ہے اس لیے ہم اپنے والد کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا، مقدمے میں نامزد تمام ملزمان سعودی شہری ہیں۔



Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top