![]() |
ماسکو: آرمينيا اور آذربائيجان متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات پر رضامند ہوگئے جو روسی حکومت کی سرپرستی میں ماسکو میں ہوں گے۔
روسی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سینئر سفارتکار ماسکو ميں مذاکراتی عمل ميں شريک ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان مسلح جنگ تاحال جاری ہے، آرمینیا نے 28 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جب کہ آذربائیجان کا کہنا ہے کہ بارود سے بھرے کئی میزائلوں کو وار زون سے باہر ناکارہ بنا دیا ہے تاہم اسی دوران دونوں ممالک نے امن مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصديق کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے سينیئر سفارت کار ماسکو ميں مذاکراتی عمل ميں شريک ہوں گے۔ وزارت داخلہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذاکرات کا یہ عمل روسی صدر ولاديمير پوتن کی جنگ بندی کی اپيل پر شروع کیا جا رہا ہے۔
آذربائيجان کی وزارتِ دفاع پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ ناگورنو کاراباخ میں آرمینیائی فوج کے اب تک 2 ہزار سے زائد فوجی غیر فعال ہوچکے ہیں جبکہ 130 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں، 200 سے زائد بھاری توپ خانے اور میزائل سسٹم تباہ کر دیے گئے ہیں
واضح رہے کہ پچھلے ماہ کے آخری ایام سے نگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے ميں آرمينيا اور آذربائيجان کی افواج کے درميان جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا جس میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں