ایک مشترکہ بیان میں سیز فائر معاہدے کا اعلان کیا گیا، آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغاز آج سے ہوگا۔
روسی وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دوپہر 12 بجے کے بعد عملاً سیز فائر کے دوران دونوں ممالک قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ کریں گے، اس عمل کی تکمیل کے بعد متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ کے تصفیے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔
معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ جنگ بندی تنازع کے حل کے لیے بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔ آذربائیجان نے آرمینین فوج کی نگورنو کاراباخ سے مکمل انخلا کو ممکنہ جنگ بندی سے مشروط کیا تھا۔
گزشتہ روز روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ آرمینیا اور آزربائیجان نے صدر میلادیمیر پوتن کی اپیل پر جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی جنگ میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جنگ کے باعث ہزاروں افراد کو متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی بھی کرنا پڑی، دونوں ممالک کے درمیان نگورنو کارا باخ سے متعلق تنازعہ 1990ء سے چل رہا ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں