واضح رہے کہ کورونا وائرس کے اثرات کم کرتے ہوئے مریضوں کی جان بچانے میں پہلے ہی نائٹرک آکسائیڈ گیس کی افادیت سامنے آچکی ہے۔ البتہ اپسلا یونیورسٹی، سویڈن میں کی گئی اس تحقیق کا تعلق پھیپھڑوں میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور رگوں میں نرمی لاتے ہوئے کورونا وائرس کی شدت کم کرنے سے تھا۔
ریسرچ جرنل ’’ریڈوکس بائیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ گیس کورونا وائرس کو اپنی نقلیں بنانے یعنی تعداد بڑھانے سے بھی روکتی ہے۔ نتیجتاً کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری (کووِڈ 19) کی شدت کم رہتی ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق ٹیسٹ ٹیوب میں رکھے گئے کورونا وائرس زدہ انسانی خلیوں پر کی گئی تھی لیکن چونکہ نائٹرک آکسائیڈ گیس پہلے ہی مختلف طبّی مقاصد میں استعمال ہورہی ہے، لہذا مزید کسی لمبی چوڑی کارروائی کی ضرورت نہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں