لاہور: احتساب عدالت لاہور کے باہر سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا نوٹس آوایزاں کر دیا گیا ہے۔

احتساب عدالت لاہور کے جج اسد علی خان نے عدالت اور نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر غیر قانونی پلاٹس الاٹ کرنے کے کیس میں اشتہاری قرار دینے کا نوٹس آویزاں کرنے کا حکم جاری کیا۔

احتساب عدالت کے جج اسد خان نے نوٹس جاری کیا جو نوٹس نوازشریف کی رہائشگاہ کے باہر چسپاں کردیا گیا۔ تفتیشی افسر وزرات خارجہ کےذریعےنوٹس لندن بھیجے گا۔ چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کا آخری موقع دیتے ہوئے ان کی طلبی کا اشتہار انگریزی اور اردو اخبارات میں شائع کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف اپیلوں پر سات اکتوبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے نواز شریف کو اشتہار کے ذریعے 24 نومبر تک پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

دوسری طرف نیب راولپنڈی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی سفارش کردی ہے۔

نیب کی جانب سے لکھا گیا خط وزارت داخلہ کو موصول ہوگیا، خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کی سفری دستاویزات کو منسوخ کیا جائے۔

نیب کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری عدالت سے جاری ہو چکے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اشتہاری قرار دینے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، اس لیے سابق وزیراعظم کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے ، نواز شریف کو وطن واپسی لانے کے لئے وزارت داخلہ انٹرپول سے بھی رابطہ کرے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top