اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو جزائر کا معاملہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر طے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نےصنعتکاروں اور کراچی کی کاروباری تنظیموں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ بنڈل آئی لینڈ منصوبے سے سرمایہ کاری،روزگار کے مواقع میسر ہوںگے، وزیراعظم ملاقات میں وفد نے کاروباری برادری کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔

شہر اقتدار میں وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران گورنر سندھ نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کے حوالے سے  وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں صوبے کے 2 جزائر سے متعلق صدرارتی آرڈیننس کو چیلنج کر دیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر کو 23 اکتوبر تک کے لیے نوٹسز جاری کر دیے گئے۔

ایڈووکیٹ شہاب اوستو نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ صدارتی آرڈیننس غیر آئینی اور غیرقانونی ہے۔



دوسری طرف گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں بنڈل آئی لینڈ پربات ہوئی ہے خواہش ہے بنڈل آئی لینڈ تیزی سے اُبھرے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بنڈل اور بڈو جزائر پر نئے شہر کو آباد کرنے میں کراچی پیکج کا کوئی دخل نہیں ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ  نے کہا کہ منصوبے کے دوران جزائر پر موجود مفید مینگروز کے جنگلات کو محفوظ رکھا جائے گا۔ منصوبےسےڈیڑھ لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ منصوبے سے حاصل تمام وصولی سندھ حکومت کو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بنڈل آئی لینڈ اور لاہور کے راوی ریور فرنٹ منصوبے پر اجلاس کی صدارت کی۔ دونوں نئے شہروں میں پینے کا صاف پانی اور نکاسی کا جدید نظام ہوگا،۔ دونوں منصوبوں سے 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ بنڈل آئی لینڈ سندھ کاحصہ ہے اور رہے گا،منصوبے سے فائدہ بھی سندھ کو ہی ہوگا۔ یہ تاثرغلط ہے کہ وفاقی حکومت سندھ  کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ پراجیکٹ کےحوالےسے ماہی گیروں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ درخواست کرتا ہوں کہ بنڈل آئی لینڈ منصوبے کو مثبت انداز میں دیکھا جائے۔ منصوبے پر جو بھی تحفظات ہیں اسے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔وزیراعظم سندھ کے دیگراضلاع کے لیے بھی پیکیج کا سوچ رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ سندھ میں جو بھی ترقیاتی کام ہوگا اس کا فائدہ بھی صوبے کے لوگوں کو ہوگا۔ سندھ کی زمین پر قبضے کا تاثر بالکل غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب نیا شہر آباد ہوگا تو روزگار بھی وہاں کے لوگوں کو ملے گا. بنڈل آئی لینڈ 1973 کے ایکٹ کے تحت پورٹ قاسم اتھارٹی کا حصہ ہے. سندھ حکومت کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

علی زیدی نے کہا کہ کراچی شہر کا 550 ملین گیلن گندا پانی ہر روز سمندر میں جاتا ہے۔ سندھ حکومت کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دبئی نے مصنوعی آئی لینڈ بنائے ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top