سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کونفلیکٹ ریسرچ کے پروفیسر اشوک سوائن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں بھارتی فوجیوں کو شکوہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ 'انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں شمولیت کے لیے بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کے بجائے عام گاڑی دے کر فوجی افسران ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں'۔
اس دوران برابر میں بیٹھے ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ 'کمانڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوپر بتائیں'۔
جس پر شکوہ کرنے والے نوجوان نے جواب دیا کہ 'کمانڈر نہیں بتائے گا ہم جان بوجھ کر اپنی زندگی برباد کررہے ہیں اور کمانڈر کو کیا ضرورت ہے بولنے کی وہ تو نہیں بولے گا'۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'او سی (سینئر افسر) بلٹ پروف گاڑی میں چار پانچ لوگوں کے ساتھ روانہ ہوگئے اور ہمیں اس عام گاڑی میں بھیج دیا جہاں بلٹ پروف گاڑی محفوظ نہیں وہاں یہ ٹین کا ڈبہ جس پر پتھر مارو تو آر پار ہوجائے، ایسے میں ہم کس طرح محفوظ ہوسکتے ہیں'۔
فوجی اہلکار نے کہا کہ 'ہمیں اس گاڑی میں چھانٹ کر بھیج دیا کہ تاکہ ہم حملے میں مارے جائیں'۔
Has the Modi regime learned any lesson from Pulwama, where 40 soldiers were killed? It still sends soldiers in ordinary trucks for anti-terror operations & soldiers are angry. A recent video (wearing masks) of soldiers complaining about the regime & senior officers' callousness. pic.twitter.com/L7PkxJLLmr
— Ashok Swain (@ashoswai) October 9, 2020
اس دوران ویڈیو بنانے والا فوجی موبائل کو اپنی طرف کرکے کہتا ہے کہ 'بہت ناقص انتظامات ہیں، او سی افسر تو بلٹ پروف گاڑی میں چلا جاتا ہے اور کمپنی (اہلکاروں) کو سادہ گاڑیوں میں روانہ کردیتا ہے'۔
ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرنے والے پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ 'کیا مودی حکومت نے پلوامہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا جہاں 40 فوجی مارے گئے تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ 'اب بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے عام ٹرکوں میں فوجیوں کو بھیجا رہا ہے اور فوجی ناراض ہیں'۔
یہ کوئی پہلی ویڈیو نہیں جس میں بھارتی فوجیوں نے حکومت اور سینئر فوجی افسران کے بے حسی اور کرپشن کا تذکرہ کیا گیا ہو۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں