اسلام آباد: ہائی کورٹ کی جانب سے بھارت کو کلبھوشن یادیو کے لئے وکیل مقرر کرنے کی دوسری ڈیڈ لائن بھی ختم ہوگئی ہے جب کہ ملک کے 2 سینیئر وکلا نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں لارجر بنچ کیس کی سماعت کرے گا۔ جسٹس عامر فاروق، جسٹس گل حسن اورنگزیب بھی بنچ میں شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو ’را‘ کے حاضر سروس دہشت گرد کل بھوشن یادیو کے لیے وکیل مقرر کرنے کیلئے مہلت دی تھی۔ عدالت کا گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ آج کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلیے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

سماعت کے دوران سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں، صرف وکلا، متعلقہ عملہ، سائلین اور میڈیا کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری طرف سینئر وکلا عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان نے رجسٹرار آفس کو اپنی عدم دستیابی سے تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔

عابد حسن منٹو نے خرابی صحت اور مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات پر عدالتی معاونت سے معذرت کی ہے۔

عابد حسن منٹو نے عدالت کوبتایا کہ عدالت کی جانب سے معاون مقرر کرنا اعزاز کی بات ہے لیکن کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر اور پریکٹس چھوڑ چکا ہوں، اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں لہٰذاعدالت معذرت قبول کرے۔

مخدوم علی خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا جانا میرے لیے باعث فخر ہے لیکن پروفیشنل وجوہات کی بنا پر عدالتی معاونت نہیں کرسکتا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top