المقاطعة لكل ماهو تركي، سواء على مستوى الاستيراد او الاستثمار او السياحة، هي مسؤولية كل سعودي "التاجر والمستهلك"، رداً على استمرار العداء من الحكومة التركية على قيادتنا وبلدنا ومواطنينا،
— عجلان العجلان (@ajlnalajlan) October 2, 2020
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے کے بعد عرب ممالک ترکی کو ہدف بنارہے ہیں اور خطے کو عدم استحکام کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جن ممالک کے بارے میں بات کی جارہی ہے ان کا ماضی میں کوئی وجود نہیں تھا اور غالباً مستقبل میں بھی نہیں ہوگا لیکن خدا کی مرضی سے ہم ہمیشہ خطے اپنا جھنڈا لہرائے رکھیں گے۔
سعودی تاجروں نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہےکہ وہ ترک برآمدات سمیت ہر میدان میں ترکی کا بائیکاٹ کریں۔
سعودی تاجروں کا کہنا تھا کہ ترک حکومت کی جانب سے سعودی رہنماؤں، شہریوں اور سعودی عرب کے خلاف مسلسل مخالفت پر یہ ردِ عمل دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جلاوطن صحافی جمال خاشقجی کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں