ریاض: ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے اسرائیل سے معاہدے اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق بیان پر سعودی عرب کی حکومت نے اور سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک صدر طیب اردوان کی اقوام متحدہ میں تقریر اور حالیہ بیان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر عرب ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب پر ایک بار پھر تنقید کی گئی تھی جس پر سعودی عرب کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ ترک صدر نے کہا تھا کہ کچھ خلیجی ممالک خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔
نجی نیوز کے مطابق سعودی عرب کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ عجلان العجلان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہماری قیادت، ہمارے ملک اور شہریوں کے خلاف ترک حکومت کی مسلسل دشمنی کے ردعمل میں ہر سعودی تاجر اور صارف ہر چیز کا بائیکاٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ بائیکاٹ شعبہ درآمد، سرمایہ کاری یا سیاحت کی سطح پر بھی کیا جائے۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے کے بعد عرب ممالک ترکی کو ہدف بنارہے ہیں اور خطے کو عدم استحکام کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جن ممالک کے بارے میں بات کی جارہی ہے ان کا ماضی میں کوئی وجود نہیں تھا اور غالباً مستقبل میں بھی نہیں ہوگا لیکن خدا کی مرضی سے ہم ہمیشہ خطے اپنا جھنڈا لہرائے رکھیں گے۔

سعودی تاجروں نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہےکہ وہ ترک برآمدات سمیت ہر میدان میں ترکی کا بائیکاٹ کریں۔

سعودی تاجروں کا کہنا تھا کہ ترک حکومت کی جانب سے سعودی رہنماؤں، شہریوں اور سعودی عرب کے خلاف مسلسل مخالفت پر یہ ردِ عمل دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جلاوطن صحافی جمال خاشقجی کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا 

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top