ترک پارلیمنٹ نے رواں برس جولائی میں مذکورہ نئے قوانین منظور کیے تھے، جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگیا۔ ان قوانین کے اطلاق کے بعد فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب سمیت بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کیلئے ترکی میں آپریٹ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اسی حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ترک حکومتی جماعت کے تعاون سے منظور کئے گئے نئے سخت سوشل میڈیا قوانین کو ملک میں یکم اکتوبر سے نافذ کردیا گیا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان قوانین کے نافذ العمل ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے دفاتر یا کم از کم نمائندے ترکی میں تعینات کرنا ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر موجود متنازعہ اور ایسا مواد جسے ہٹانے کا حکم ترکی کی عدالتیں دیں گی ، سوشل میڈیا کمپنیاں اس مواد کو ہٹانے کی پابند ہوں گی، بصورت دیگر حکومت ان پلیٹ فارمز پر جرمانہ عائد کرسکتی ہے۔
نئے قوانین کے نفاذ کے بعد تمام سوشل ویب سائٹس اور ایپلی کیشن ترک حکومت کے احکامات ماننے کی پابند ہوں گی اور انکار کرنے والے اداروں کے اشتہارات کو روکے جانے سمیت ان پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں