فصیلات کے مطابق چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی زینب سے جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے درج مقدمے میں اغواء کے ساتھ قتل کا مقدمہ بھی شامل کرلیا گیا ، ڈی پی او کا کہنا ہے کہ قتل اور زیادتی کا ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوا ، پولیس کارروائی کو فی الحال راز میں رکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق چارسدہ میں کھیتوں سے ڈھائی سالہ بچی کی لاش ملی جسے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کردیا گیا۔
ڈی ایچ کیو چار سدہ کی میڈیکل آفیسر نے بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بچی کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔
ڈی پی او کے مطابق ڈھائی سالہ بچی کو 6 اکتوبر کو اغوار کیا گیا جس کی لاش اگلے روز ملی، ڈاکٹر کا بتانا ہےکہ لاش پر کسی جانور کے پنجے کا بھی نشان ہے۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ کرائم سین پرجیو فینسنگ کرلی گئی ہے اور بچی کے ڈی این اے سیمپل فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
ڈی پی او چارسدہ کے مطابق مقدمے میں اغوا کے بعد قتل کی دفعات بھی شامل ہیں اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن درویش خان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور دیگر حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
محمود خان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کسی صورت قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے اور ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔
والد نے مزید کہا کہ ملزم کوگرفتار کرکے پوچھا جائے ایسا سلوک کیوں کیا ؟ میری بیٹی بڑی خوبصورت اور پیاری تھی ، سفاک ملزم کو سرعام پھانسی دی جائے۔
یاد رہے چارسدہ میں ڈھائی سال کی بچی کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کردیا گیا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی سے اٹھارہ گھنٹے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بچی کا پیٹ اور سینہ چیرا گیا۔
معصوم بچی گزشتہ روز چارسدہ سے اغوا ہوگئی تھی،جس کے بعد اس کی لاش پشاور میں کھیتوں سے برآمد ہوئی، قتل کی وجہ جاننے کے لیے بچی کا چار مرتبہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں