میڈیا میں خطابات پر پابندی سے متعلق آصف زرداری نے کہا کہ اب تقریر روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ سابق صدر نے کیسز کے سوال پر کہا کہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اس طرح کے کیسز بنتے رہتے ہیں۔
ن لیگی رہنما خواجہ آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ان کا بیان اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ حکومت کو مزید کتنا وقت دیکھ رہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابھی تو بسم اللہ کی ہے۔
ادھر آصف زرداری پر مزید دو ریفرنس میں فرد جرم عائد ہوگئی۔ سابق صدر سمیت دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ احتساب عدالت نے پارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی ضمنی ریفرنس میں گواہاں کو طلب کرلیا۔
شریک ملزم شیر علی نے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہونے کی وجہ طبعت ناساز ہونا بتایا۔ عدالت نے نیب کو پارک لین ریفرنس میں 20 اکتوبر جبکہ ٹھتھہ واٹرسپلائی ریفرنس میں 21 اکتوبر کو گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، آئندہ سماعت پر دونوں ریفرنس میں تین، تین گواہ پیش کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ انھیں آج بھی آصف زرداری پر تحفظات ہیں اور زرداری سے متعلق ان کی رائے تبدیل نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا میں بار بار کہوں گا کہ مجھے آصف زرداری پر یقین نہیں۔
بعد ازاں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے معافی مانگ لی ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اگر میرے بیان سے سابق صدر کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی حکومت مخالف اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کا حصہ ہیں اور دنوں جماعتوں کی سیاسی قیادت نے ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں