پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی۔ 

جمعہ کو پی ٹی اے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹاک ٹاک پر ‘غیر اخلاقی اور غیرمہذب’ مواد کے خلاف عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق عوام کی شکایات اور ٹک ٹاک پر موجود مواد کا معائنہ کرنے کے بعد اس کے حکام کو ایک نوٹس بھیج کر ہدایت کی گئی کہ غیرقانونی مواد کی روک تھام اور اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کیلئے فعال طریقہ کار متعارف کیا جائے مگر ٹاک ٹاک نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کے باعث پاکستان میں ٹک ٹاک بلاک کرنے کا حکم دیا گیا۔

 پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ اپنے تحفظات شیئر کیے گئے تھے اور انہیں پی ٹی اے کی ہدایات پر عمل کے لیے مناسب وقت بھی دیا گیا تھا تاہم ٹک ٹاک انتظامیہ ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔

 پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ اگر وہ آنے والے دنوں میں ریگولیٹر کی ہدایات کے مطابق غیر اخلاقی مواد کو روکنے کا مؤثر مکینزم تیار کرلیتا ہے تو پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’ ٹنڈر‘ اور ’سے ہائے‘ سمیت پانچ ڈیٹنگ ایپس اور لائیو اسٹریمنگ ویب سائٹس پر پابندی لگائی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان معاشرے میں بڑھتی عریانیت اور فحاشی پر شدید پریشان ہیں اور انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو اس کی روک تھام کے لیے ہدایت کی ہے کیونکہ ایسا نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے کی سماجی و مذہبی اقدار تباہ ہو جائیں گی۔

ٹک ٹاک ایک چینی کمپنی Btye Dance کی ملکیت ہے اور چین میں ایک اور نام سے ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشن بھی یہی کمپنی چلاتی ہے۔ ٹک ٹاک کو 2017 میں لانچ کیا گیا اور اس نے بہت کم وقت میں دنیا بھر سے کروڑوں نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ اس کی تیزرفتار مقبولیت کے باعث امریکی سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور اسنیپ چیٹ اس کو اپنا حریف سمجھنے لگے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top