گلگت بلتستان کے انتخابات میں تمام نشستوں کے غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے، تحریک انصاف 9 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ پیپلز پارٹی 3 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور (ن) لیگ دو نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، 7 نشستوں پر آزاد امیدوار فتح یاب ہوگئے۔

گلگت بلتستان کی 24 میں سے 23 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک پر امن طریقے سے بلاتعطل جاری رہا۔ سرد موسم میں بھی لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔

انتخابات میں تمام 23 حلقوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آچکے ہیں جن میں سے 9 نشستوں پر تحریک انصاف کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کو 3، مسلم لیگ (ن) کو دو اور ایم ڈبلیو ایم کو ایک نشست ملی جبکہ 7 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ نتائج آنے پر گلگت کے مختلف مقامات پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی گئی اور متوقع فتح یاب امیدواروں کے کارکنوں نے جشن منایا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے 4 خواتین سمیت 330 اُمیدوار انتخابات میں حصہ لیا، تاہم ووٹنگ 23 نشستوں پر ہوئی کیونکہ پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر جسٹس (ر) جعفر شاہ کے کورونا وائرس کی وجہ سے وفات کے بعد جی بی ایل اے 3 میں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔

تحریک انصاف کے راجہ ذکریا نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ کو ہرا دیا، گانچھے سے پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل کامیاب ہوگئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین دو حلقوں سے کامیاب ہوگئے۔

امجدحسین جی بی اے 1 گلگت 1 اور جی بی اے 4 نگر 1 سے کامیاب ہوئے، گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار کوئی امیدوار دو حلقوں سے کامیاب ہوا ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top