کراچی: ملکی زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کے بعد 34 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے کے دوران 17 کروڑ ڈالر اضافے سے 20 ارب 85 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل زرمبادلہ ذخائر کا یہ لیول جنوری 2018ء میں دیکھا گیا تھا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کی موخر ادائیگیوں، غیر ملکی مالیاتی اداروں کی معاونت اور تجارتی خسارے میں کمی سے ادائیگیوں کا توازن بہتر ہو رہا ہے جس سے ملکی زرمبادلہ ذخائر کو بھی استحکام مل رہا ہے۔

 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کو ایکسپورٹس اور غیر ملکی سرمایاکاری کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 13 نومبر 2020ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 20.085 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب مسلسل چوتھے ماہ ملکی کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں رہا ، اسٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں کرنٹ اکائونٹ سرپلس بڑھ کر اڑتیس کروڑ بیس لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو ستمبر میں پانچ کروڑنوے لاکھ ڈالر تھا۔

جولائی سے اکتوبر کے دوران کرنٹ اکائونٹ ایک ارب بیس کروڑ ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں کرنٹ اکائونٹ ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر خسارے میں تھا ، ترسیلات زر میں اضافے اور تجارتی خسارہ محدود رہنے سے کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں اضافہ ہوا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top