وزیر اعظم عمران خان نے  ملک میں الیکٹرونک ووٹنگ  سسٹم لانے کا اعلان کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق انتخابی اصلاحات سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں اب الیکٹرونک ووٹنگ لانے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سےبات ہو رہی ہے، الیکٹرونک ووٹنگ سے پاکستان میں سب سے بہترین الیکشن کرانے کا نظام آئے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے اظہار خیال کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر قوم کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے، جی بی انتخابات میں پی ٹی آئی پر اعتماد کرنے کےلیے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں صرف ہم نے نہیں بلکہ ن لیگ اور پی پی پی سمیت تمام جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا، ہم نے ایک سال تک 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد دھرنا دیا تھا، یہ کام ہم نے 2018 انتخابات کی شفافیت کے لیے کیا تھا، ہم ملک میں بہترین انتخابی اصلاحات کے خواہاں ہیں اور میں نے شفاف الیکشن کے لیے مہم چلائی تھی، ماضی میں جس ملک میں میچ ہوتا اسی کا امپائر ہوتا تھا اسی لیے ہارنے والی ٹیم شکست تسلیم نہیں کرتی تھی، میں وہ کپتان تھا جس کی وجہ سے کرکٹ میں نیوٹرل امپائر آئے، میری کوشش ہے کہ کہ پاکستان میں الیکشن کا ایسا ماحول ہو کہ جو ہارے وہ شکست تسلیم کرے۔

 عمران خان نے پاکستان میں الیکٹرونک ووٹنگ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چاہتا ہوں کہ اگلا الیکشن بشمول آزاد کشمیر اور سینیٹ الیکشن ایسا ہو کہ ہارنے والا ہار تسلیم کرے، اس کے لیے انتخابی اصلاحات کی ہیں، ایک کمیٹی کام کررہی ہے جس میں اعظم سواتی، پرویز خٹک، بابر اعوان اور شفقت محمود شامل ہیں، دو چیزیں پارلیمنٹ سے منظور کرائیں گے جس میں سے ایک الیکٹرانک ووٹنگ ہے، اب الیکشن میں ماڈرن ٹیکنالوجی کااستعمال ہوگا، اس بارے میں الیکشن کمیشن سے بات ہورہی ہے اور ای ووٹنگ کےلیے نادرا سے ڈیٹا لیں گے۔

وزیراعظم نے دوسری اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بھی ایک سسٹم لے کر آ رہے ہیں جس کے بعد وہ الیکشن کے عمل میں بھرپور حصہ لے سکیں گے اور ووٹ ڈال سکیں گے۔ انہوں نے تیسری اصلاحات کے بارے میں بتایا کہ سب کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں پیسہ خرچ ہوتا ہے، اسے شفاف بنانے کے لئے سسٹم لے کر آ رہے ہیں، حالانکہ کوئی بھی برسراقتدار حکومت ایسی اصلاحات نہیں لاسکتی۔

عمران خان نے کہا کہ تیسری اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم کرنی ہوگی جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے، سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز (ہاتھ کھڑا کرکے ووٹنگ) کے لیے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کا بل پیش کریں گے، کیونکہ خفیہ بیلٹنگ میں پیسہ چلتا ہے اور ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جس کا سب اعتراف کرتے ہیں، اسے روکنے کےلیے سب کے سامنے شو آف ہینڈز ہوگا، تاکہ اس عمل میں کرپشن ختم ہو۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top