کورونا وائرس کے خطرات اور شدید برف باری کے دوران گلگت بلتستان میں ہنگامہ خیز انتخابات کے لیے ووٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہو گیا ہے اور اب گنتی کا عمل شروع ہوگیا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہا جہاں 4 خواتین سمیت 330 اُمیدوار مدمقابل ہیں جبکہ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی ہوگئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے کورونا وبا سے بچاؤ کے پیش نظر فیس ماسک پہنے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے پولنگ اسٹیشنز کے سامنے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔

تمام 23 حلقوں میں پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا رکاوٹ جاری رہا جبکہ گلگت شہر میں خواتین اور بزرگوں کی بھی بڑی تعداد ووٹ دینے نکلی تاہم غذر، سوست، بلتستان کے حلقوں میں شدید برف باری کے باعث لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہوگئے جس سے ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ووٹنگ کا عمل بغیر کسی تعطل کے صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا مزید یہ کہ گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیے گئے تھے۔

انتخابات کے موقع پر ایک ہزار 141 پولنگ اسٹیشنز میں سے 297 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

اس مرتبہ کے انتخابات کو اس لیے بھی خاصی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے لیے اپوزیشن کی 2 جماعتوں نے جارحانہ مہم چلائی اور مذکورہ انتخابات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ ساتھ اپوزیشن رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے لیے بھی ٹیسٹ کیس ہے۔

انتخابی مہم کے دوران سیاسی درجہ حرارت نقطہ عروج کو چھونے لگا تھا، 3 بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطے کے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں کا انعقاد کیا اور گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ 100 نوٹسز کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیانات دیے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے ۔

جی بی اے انتخابات کے اب تک موصول ہونے والے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 8، پی پی پی ، 7 اور ن لیگ د و حلقوں میں آگے ہے۔ 

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top