بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی حکومت نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے پر عملدر آمد مؤخر کر دیا ہے، امریکی حکام کے مطابق وہ ایک امریکی عدالت کی جانب سے ٹک ٹاک کے حق میں دیے گئے فیصلے کی پاسداری کریں گے۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے حکام مقبول ایپ پر پابندی لگانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں، ان کا الزام ہے کہ ٹک ٹاک کا اپنی ملکیتی چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کے ذریعے چینی حکام سے تعلق ہے اور اس طرح ٹک ٹاک صارفین کا ڈیٹا چین حاصل کر سکتا ہے۔
ٹک ٹاک نے اس حوالے سے اوریکل اور وال مارٹ کے ساتھ شراکت داری کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا، مگر اب تک اسے حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔
ستمبر میں امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 12 نومبر سے امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی جائے گی، جس کے خلاف امریکی عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔
اب کامرس ڈیپارٹمنٹ کمٹی آن فارن انوسٹمینٹ (سی ایف آئی یو ایس) نے ٹک ٹاک کی اس مدت میں 15 دن تک بڑھا کر اسے 27 نومبر تک کی مہلت دی ہے۔
اس مہلت کے دوران ٹک ٹاک کو شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دینی ہوگی یا پابندی کا سامنا کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے صدارتی حکم کے خلاف تو عدالت نے حکم امتناع جاری کیا، مگر صدر کے 14 اگست کے ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت ایپ کی فروخت کی شرط ختم نہیں ہوئی۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں