نواب آف جونا گڑھ محمد جہانگیر خان جی نے کہا ہے کہ  مودی کو باورکراتا ہوں کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ تھا اور رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق نواب آف جونا گڑھ محمد جہانگیر خان جی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے جوناگڑھ ریاست پر زبردستی قبضہ کیا ہے تاہم جوناگڑھ کے ساتھ معاہدے کو قائداعظم محمد علی جناح نے منظور کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں جونا گڑھ کا کیس داخل کیا تھا اور آج عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کشمیر کی طرح جوناگڑھ کے بھی سفیر بنیں اور جوناگڑھ کیلئے بھی عالمی فورمز پر آواز اٹھائیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواب  آف جونا گڑھ محمد جہانگیر خان نے کہا کہ تاریخ کو یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے اور ریاست جوناگڑھ کی تاریخ یہ ہے کہ بھارت نے اس پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جونا گڑھ 4 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط تھی متعدد بندرگاہیں بھی ریاست جونا گڑھ کا حصہ تھیں اور جونا گڑھ ریاست مکمل فلاحی ریاست کے طور پر کام کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ کے ساتھ معاہدے کو قائداعظم محمد علی جناح  نے منظوری دی جب 25 اکتوبر 1947 کونواب مہابت خان جی پاکستان تشریف لائے۔

جونا گڑھ سے آئے عوام نے پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالستا ایدھی کا تعلق  بھی جونا گڑھ سے تھا۔

نواب محمد جہانگیر خان نے کہا کہ ہم مودی کو بتانا چاہتے ہیں جونا گڑھ کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ مودی سن لے جوناگڑھ پاکستان کاحصہ تھا ہے اور رہے۔نواب محمد جہانگیر خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی جوناگڑھ کی عوام مجھ سے رابطہ کرتی ہے کہ کب وہ بھارت سے نجات ملے گی۔ بھارت نے ریاست جوناگڑھ کی عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ 

نواب آف جونا گڑھ نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کشمیرکی طرح جونا گڑھ کا مقدمہ بھی عالمی سطح پر اٹھائیں۔ اور اسلام آباد  میں جونا گڑھ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جونا گڑھ میں آباد آبادیاں نواب آف جونا گڑھ سے وفاداری کا دم بھرتی ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top