غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے مرکزی اناطولین خطے کے اہم شہر قونیہ میں قائم ڈیری پلانٹ میں ملازم کی دودھ کے ٹب میں نہانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد مذکورہ پلانٹ کو بند کردیا گیا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے ملازم دودھ کے ٹب میں نہا رہا ہے، اور پیالا دودھ سے بھر کر اسے اپنے اوپر ڈال رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں موجود ملازم ایمری سیئر اور ٹک ٹاک پر کلپ شیئر کرنے والے اوور تورگت دونوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
Bir süt fabrikasında çekilen ve Tiktok'ta paylaşılan 'süt banyosu' videosu.
— Neden TT oldu? (@nedenttoldu) November 5, 2020
Fabrikanın 'Konya'da olduğu' iddia ediliyor. pic.twitter.com/erkXhlX0yM
دو کارکنان جنہوں نے نہاتے ہوئے ان لمحوں کو کیمرہ میں ریکارڈ کیا، انہیں فوٹیج پھیلانے کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے۔
عمیر سیئر نے جو تصاویر میں دودھ کے ٹب میں نہاتے ہوئے دیکھے گئے تھے، اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح بیان کی۔
’میں چار ماہ سے اس جگہ پر کام کر رہا ہوں۔ اس دن میں دودھ جمع کرنے کے مرکز میں کولنگ ٹینک کی صفائی کر رہا تھا۔ گودام کا حاضر ملازم اوور تورگت میرے پاس آیا اور کہا، جراثیم کُش بوائلر میں جا کر ویڈیو بنائیں۔ میں نے پہلے انکار کر دیا تھا لیکن چونکہ ہمیں کوئی خوف نہیں تھا ہم نے کر لیا۔‘
’میں نے جراثیم کش ٹب میں گرم پانی ڈال کر اسے تیار کیا۔ میں نے کپڑے اتارے۔ اپنے انڈرویئر میں ٹب میں داخل ہوا۔ تورگت نے اپنے فون سے ویڈیو ریکارڈ کی۔ لیکن میں نے اسے کہا کہ اسے کہیں سوشل میڈیا پر نہیں ڈالنا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ جب میرے واقف کاروں نے پانچ نومبر کو مجھے فون کیا اور بتایا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر میری ویڈیو دیکھی ہے تو مجھے احساس ہوا کہ ویڈیو شیئر کر دی گئی ہے۔ میں نے جراثیم کش ٹب میں دودھ کے ساتھ ملے ہوئے گرم پانی سے نہایا تھا۔‘
ویڈیو بنانے والے اوور تورگت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس نے دودھ سے غسل نہیں کیا، اس نے دودھ سے ملے جراثیم کش بوائلر میں نہایا تھا۔
’اسی دن میں نے ویڈیو کو ٹک ٹاک پر ڈا دی مگر میں نے تقریباً ایک منٹ میں ویڈیو ڈیلیٹ کر دی۔ جب پولیس نے مجھے فون کیا تو مجھے احساس ہوا کہ ویڈیو پھیل گئی ہے۔‘
پراسیکیوٹر کے دفتر کی تحقیقات میں ماہرین سے رپورٹ لی جائے گی کہ بوائلر میں دودھ تھا یا کوئی جراثیم کش محلول۔ تفتیش ابھی جاری ہے۔
ان دونوں ملازمین کے خلاف ترک تعزیرات کوڈ (ٹی سی کے) کے آرٹیکل 185 کے تحت کارروائی کی گئی۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں