آرمینیا اور آذربائیجان نے منگل کے اوائل میں روس کے ساتھ نیگورنو۔کاراباخے کے تحت آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں لڑائی روکنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کردیا جس میں تقریبا 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور آذربائیجان کی قیادت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ پاشنیان کے مطابق وہ آئندہ دنوں میں قوم سے خطاب کریں گے۔

پاشنیان نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر کی گی پوسٹ میں اپنے ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس فیصلے کو دشوار قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عسکری صورت حال کے گہرے تجزیے اور ان افراد کی جانب سے جائزے کے بعد کیا گیا جو موجودہ صورت حال کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔

ماسکو نے منگل کو کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے روس دو ہزار کے قریب امن رضا کار متنازع خطے میں بھیج رہا ہے۔ یہ امن رضا کار پانچ سال کی مدت کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان روس کی ثالثی میں اس سے قبل بھی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ البتہ فریقین کے ایک دوسرے پر الزامات کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔

حالیہ جنگ بندی معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آذربائیجان کی فورسز نے نوگورنو کاراباخ کے کئی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔

اتوار کو آذربائیجان کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی فورسز نے نوگورنو کاراباخ کے اہم ترین علاقے 'شوشا' پر قبضہ کر لیا ہے۔

جنگ بندی کے نئے معاہدے کے تحت آذربائیجان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا جہاں وہ ستمبر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد قبضہ کر چکا تھا۔

ناگورنو کاراباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ البتہ اس پر آرمینیائی نسلی گروہ کا کنٹرول ہے۔

معاہدے کے بعد آرمینیا کے وزیرِ اعظم نکول پشنیان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے پر دستخط اُن کے اور آرمینیا کے عوام کے لیے ناقابلِ بیان حد تک تکلیف دہ تھا۔

اُن کے بقول جنگ بندی معاہدے پر دستخط کا فیصلہ فوجی صورتِ حال کا باریک تجزیہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق نیگورنو۔کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے اختتام کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔

اس کے بعد سے متعدد جھڑپ ہوچکی ہیں تاہم اس علاقے میں حالیہ شدید لڑائی کا آغاز رواں سال 27 ستمبر کو ہوا تھا۔

اس عرصے کے دوران متعدد جنگ بندیوں کا مطالبہ کیا جاچکا ہے تاہم فوری طور پر اس کی خلاف ورزی بھی دیکھی گئی تھی تاہم اب اعلان کردہ معاہدے پر عمل کا امکان زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ آذربائیجان اہم شہر شوشی کا کنٹرول سنبھالنے سمیت اہم پیشرفت کرچکا ہے۔

آرمینیائی وزیر اعظم نیکول پاشینی نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لڑائی کا خاتمہ کرنا میرے لیے ذاتی طور پر اور ہمارے لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔

اس اعلان کے فوراً بعد ہی ہزاروں افراد اس معاہدے کے خلاف آرمینیائی دارالحکومت یریوان کے مرکزی چوک پر پہنچے اور کئی چیخ چیخ کر کہتے سنائی دیے کہ ’ہم اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے‘۔

 ان میں سے کچھ لوگوں نے مرکزی سرکاری عمارت میں گھس کر یہ کہا کہ وہ وزیر اعظم کی تلاش کر رہے ہیں جو بظاہر پہلے ہی روانہ ہوچکے تھے۔

اس معاہدے میں آرمینیائی فوج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اگرم کے مشرقی ضلع سمیت نیگورنو۔کاراباخ کی سرحدوں کے باہر واقع کچھ علاقوں کا کنٹرول چھوڑ دیں۔

یہ علاقہ آذربائیجان کے لیے بھاری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

آرمینیا بھی لاچین کے خطے سے باہر آجائے گا جہاں ناگورنو کاراباخ سے آرمینیا جانے کے لیے مرکزی سڑک قائم ہے۔

اس معاہدے میں نام نہاد سڑک لاچین کوریڈور کو کھلا رکھنے اور روس سے تعلق رکھنے والے امن کے رکھوالوں کے زیر تحفظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان تمام ایک ہزار 960 روسی فوجیوں کو خطے میں 5 سال کے مینڈیٹ کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔

اس معاہدے میں آذربائیجان کے مغربی علاقے نخسیوان سے آرمینیا سے ٹرانسپورٹ روابط قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس کے ارد گرد آرمینیا، ایران اور ترکی شامل ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top