گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونیوالے بھارتی صحافی ایشان تھرور کا ایک آرٹیکل شیئر کیا جس کا عنوان تھا "ٹرمپ کی شکست دنیا کے بدعنوانیوں اور آمروں کے لئے ایک دھچکا ہے”
بعد ازاں احسن اقبال کا ٹوئٹ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ری ٹوئٹ کردیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے امریکی ایمبیسی کے اس ٹویٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور امریکی ایمبیسی سے معافی کا مطالبہ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ApologiseUSembassy# سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
امریکی سفارت خانے نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری پیغام میں کہا کہ ‘گزشتہ رات سفات خانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بغیر اجازت کے استعمال ہوا، امریکی سفارت خانہ سیاسی پیغامات کو ری ٹوئٹ یا ان کی پوسٹنگ اور حمایت نہیں کرتا، ہم غیر مجاز پوسٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھن پر معذرت خواہ ہیں’۔
Dear Followers: The U.S. Embassy Islamabad Twitter account was accessed last night without authorization. The U.S. Embassy does not endorse the posting or retweeting of political messages. We apologize for any confusion that may have resulted from the unauthorized post.
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) November 11, 2020
خیال رہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے یہ معذرت سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شدید رد عمل کے بعد کی گئی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک آرٹیکل کا اسکرین شاٹ ٹوئٹ کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ‘ٹرمپ کی شکست دنیا بھر کے آمروں کے لیے ایک دھچکا ہے’۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں