تفصیل کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے شادی تقریبات بارے گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں جن کا نفاذ 20 نومبر سے مخصوص شہروں میں ہوگا۔ شادی گائیڈ لائنز کا نفاذ مخصوص شہروں کے شہری علاقوں میں ہو گا۔
ان میں پنجاب کے 7، سندھ کے 2 جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ایک، ایک شہر میں شادی گائیڈ لائنز نافذ العمل ہونگی۔ تقریب کا انعقاد اور جگہ کا انتخاب لوکل ہیلتھ اتھارٹی کی مشاورت سے ہو گا۔
کورونا ایس او پیز کے تحت شادی کی تقریبات کے لیے آؤٹ ڈور میرج ہالز ضروری، تقریب کا وقت دو گھنٹے، رات دس بجے کے بعد کوئی شادی کی تقریب نہیں ہوگی۔
کوروناکے پھیلاؤ کی وجہ سے ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی کا معاملہ!، بیس نومبر سے آؤٹ ڈور میرج ہالز میں شادیوں کے حوالے سے ایس او پیز جاری کردیئے گئے۔
ایس اوپیز کے تحت آؤٹ ڈور شادی تقریب میں زیادہ سے زیادہ ہزار افراد شرکت کرسکیں گے، شادی کی تقریب کا وقت دو گھنٹے ہوگا اور رات دس بجے کے بعد شادی کی تقریب نہیں ہو گی۔
تمام شرکا کے لیے ماسک پہننا اور سینٹائزر کا استعمال، چھ فٹ کا سماجی فاصلہ رکھناضروری ہوگا۔ آؤٹ ڈور ہالز کے داخلی دروازوں پر تھرمل اسکیننگ کی جائے گی، بوفے ڈنر اور لنچ میں سیلف سروسز پر پابندی ہوگی۔
ایس اوپیز کےمطابق پیکنگ میں لنچ بکس اور ٹیبل سروس کے تحت ہی کھانا دیا جائے گا، ایس اوپیز کے تحت ہزار افراد کے لیے 36ہزا سکوائر فٹ اور 500افراد کے لیے 18ہزار سکوائر فٹ جگہ ضروری ہوگی۔
دو سو پچاس افراد کے لئے نوہزار اسکوائرفٹ، ایک سوپچاس افراد کے لئے پانچ ہزار چارسواور سوافراد کے لئے چھتیس سواسکوائرفٹ اوپن جگہ کا ہونا لازمی ہوگا۔
گائیڈ لائنز کے مطابق شادی کی ان ڈور تقریب پر پابندی تاہم آئوٹ ڈور کی اجازت ہوگی۔ مارکیز میں شادی کی تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی۔ شادی کی آئوٹ ڈور میں کنوپی ٹینٹ کا استعمال ممنوع ہو گا۔


Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں