یہی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اپنے مخالفین اور دیگر افراد پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اکثر 'لوزرز' بھی قرار دیتے رہے ہیں۔
لیکن اب اگر کوئی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر 'لوزر' (looser) لکھے تو 'people' ٹیب میں دکھائی دینے والی شخصیات میں سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام آرہا ہے۔
خیال رہے کہ بزنس انسائیڈر اور اس کے انتخابی شراکت دار، ڈیسژن ڈیسک ایچ کیو نے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی جیت کا امکان ظاہر کیا تھا۔
اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی این این جیسے بڑے خبر رساں اداروں نے 7 نومبر کو صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی فتح کا اعلان کیا تھا۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے نتائج ماننے سے انکار کردیا ہے اور وہ انتخاب میں اپنی شکست کو بھی قبول نہیں کر رہے۔
سرچز میں ٹرمپ کو 'لوزر' دکھانے سے متعلق ٹوئٹر کے ترجمان نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ یہ لوگوں کی ٹوئٹس کے نتیجے میں ظاہر ہو رہا ہے اور ایسا ہمیشہ نہیں رہے گا۔
ٹوئٹر کے ترجمان نے کہا کہ اگر کسی اکاؤنٹ کو اکثر مرتبہ مخصوص اصطلاحات یا الفاظ کے ساتھ مینشن کیا جائے، تو الگورتھم کی وجہ سے ایک دوسرے سے منسلک ہوکر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وابستگیاں عارضی ہوتی ہیں اور یہ ہمیشہ لوگوں کے ٹوئٹس پر مبنی ہونے کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی انتخاب کے دوران امیدواروں سے متعلق گمراہ کن معلومات، ووٹنگ اور نتائج کی وجہ سے ٹوئٹر اور دیگر کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی بھی کی گئی۔
اس دوران غلط معلومات کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کرنے والے ٹوئٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ٹوئٹس بھی ہٹائیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں