کابل: افغانستان میں مستقل قیام امن اور مذاکرات کے سلسلے کو مزید تقویت دینے کے لیے افغان صدر اشرف غنی نے عید کے موقع پر500 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق عید الاضحیٰ کے موقع پر قوم سے خطاب میں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے عید کے دنوں میں سیز فائر کے اعلان کے جواب میں طالبان قیدی رہا کرنے کا حکم دیا۔
افغان صدر نے کہا کہ ان قیدیوں کو اگلے چار روز کے دوران رہا کیا جائے گا اور رہا کیے جانے والے یہ 500 طالبان قیدی اس فہرست میں سے نہیں ہیں جو طالبان نے حکومت کو فراہم کی ہے۔
افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان کی فراہم کردہ فہرست میں 400 قیدی انتہائی سنگین جرائم میں ملوث ہیں جن کی رہائی کا اختیار بطور صدر ان کے پاس بھی نہیں ہے لہٰذا وہ اس معاملے پر جرگہ اور افغان قبائل سے مشورہ کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے مرحلہ وار طالبان قیدی رہا کیے جارہے تھے لیکن عید کے موقع پر ایک ساتھ پانچ سو جنگجو آزاد کیے جائیں گے، ممکنہ طور پر طالبان بھی اچھا ردعمل دیں گے۔
افغان صدر کا کہنا ہے کہ رہائی کا حکم 3دن کی جنگ بندی کے ردعمل میں کیا، امید ہے جنگ بندی مزید آگے بڑھے گی، افغان حکومت اب تک 4600 طالبان کے قیدی رہا کرچکی ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہےکہ طالبان امریکا سے کیے گئے معاہدے کے مطابق ایک ہزار قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل کرچکے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان نے جمعرات کے روز 82 مزید قیدیوں کو رہا کیا جس سے رہائی پانے والوں کی تعداد ایک ہزار پانچ ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ 29 فروری کو دوحہ میں طے پایا جس کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کےبدلے طالبان کو ایک ہزار قیدی رہا کرنے ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں