اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئے مالی سال کے پہلے ماہ میں ہدف سے 57 ارب روپے زائد ریونیو حاصل کر لیا۔
ایف بی آر نے ماہ جولائی کی حاصل کردہ ریونیو تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق مالی سال 21-2020 کے پہلے ماہ کے مقر ر کردہ ہدف 243 ارب کے مقابلے میں 57 ارب کے اضافہ کے ساتھ 300 ارب اکھٹے کیے گئے ہیں جو مقرر کردہ ریونیو ہدف کا 123.45 فیصد بنتے ہیں۔
ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پہلے ماہ مقررکردہ ہدف کے مقابلے میں57 ارب اضافہ کے ساتھ 300ارب اکٹھے کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق یہ ٹیکس وصولی مقر رکردہ ریونیو ہدف کا 123.45 فیصد بنتےہیں۔ ان لینڈ ریونیو سے 52ارب اور کسٹمز سے 5ارب کا زائد اضافہ حاصل ہوا۔ ایف بی آر نے کسٹمز ڈیوٹی میں 25ارب کا ریلیف دیا تھا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ کاروباری کمیونیٹی کی کورونا وبا کے باعث معاشی مشکلات کو دور کرنے کے لیے ماہ جولائی میں ان لینڈ ریونیو کی مد میں 15 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے، سیلز ٹیکس ریفنڈز بھی مرکزی اور خودکار نظام کے تحت حکومت کے وعدے کے مطابق 72 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جارہے ہیں۔
ان ریفنڈز کی بدولت برآمدکنندگان اور مختلف صنعتوں سے وابستہ کاروباری افراد کو لیکویڈیٹی جیسے مسائل سے نکلنےمیں بھی مدد ملے گی۔ماہ جو لائی میں پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد اضافہ کے ساتھ 42 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی اکھٹی ہوئی۔
گو کہ جولائی میں درآمدات میں 1فیصد سے بھی کم اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن ایف بی آر کے ریوینیو میں یہ اضافہ بہتر انتظامی کنٹرول اور نگرانی کے باعث ممکن ہوا اور کورونا وبا کے باعث معاشی سست روی، لاک ڈاون اور حکومت کی درآمد کمی کی پالیسی کے باوجود حاصل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ فنانس ایکٹ 2020 میں کسٹمز سے متعلقہ کوئی نیا ٹیکس و ڈیوٹی نہیں لگائی گئی۔ ایف بی آر تجارت سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کے لئے بھی کوشاں ہے۔
کرپشن سے پاک ایف بی آر کی کوششیں بھی جاری ہیں اور صرف جولائی کے ماہ میں درجنوں افسران و اہلکاروں کو برطرف اور معطل کیا جا چکا ہے

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں