اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب نے گندم کی دستیابی کی صورتحال کے حوالے سے بتایا، کہ پنجاب حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر پندرہ ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم کی سپلائی فلور ملز کو کی جا رہی ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پاسکو سے 80 ہزار میٹرک ٹن گندم حاصل کر لی ہے، جبکہ مزید ایک لاکھ میٹرک ٹن کے لئے معاہدہ ہو چکا ہے۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سرکاری طور پر گندم کی ریلیز سے جہاں دستیابی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے وہاں قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ آٹا عوام الناس کی بنیادی ضرورت ہے لہذا اس کی دستیابی اور مناسب قیمت پرمیسر آنے کو یقینی بنایا جائے۔ مارکیٹ میں گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے نجی شعبے کے ساتھ ساتھ سرکاری طورپر بھی گندم کی درآمدکے عمل کو تیز کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو ملک بھر میں یکساں سطح پر لانے کے لئے تمام چیف سیکرٹری صاحبان باہمی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
اجلاس میں ملک میں چینی کے موجود ذخائر، ملکی ضروریات اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ چینی کی وافر دستیابی اور مناسب قیمت کو یقینی بنانے پربھرپور توجہ دی جائے۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں