بھارتی گاؤں پوتا کُڑی کے رہائشیوں نے کھمبے پر موجود چڑیا کے انڈوں کو بچانے کے لیے 35 روز اسٹریٹ لائٹ بند رکھیں۔

بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ضلع شیوا گنگائی کے ایک دیہات پوتا کُڑی میں ایک ہی مرکزی کھمبے سے باقی اسٹریٹ لائٹس کو چلایا جاتا ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اس کے سوئچ بورڈ پر ایک چڑیا نے گھونسلہ بنادیا اور اس پر انڈے دیئے اگر بجلی کو  جلایا گیا تو اس سے چڑیا کے بچے روشنی یا کرنٹ سے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

سب سے پہلے کاروپوراجہ نے مرکزی سوئچ بورڈ والے کھمبے پر ایک چڑیا کا گھونسلہ دیکھا۔ اس سے قبل وہ اسی پرندے کو گھونسلہ بناتے ہوئے بھی دیکھ چکے تھے۔ جب اس نے گھونسلے میں جھانکا تو اس میں تین سبزمائل نیلے انڈے پڑے تھے جن پر کالے دھبے پڑے ہوئے تھے۔
یہ انڈے ایک لوکل چڑیا کے تھے۔ اس کے بعد کاروپوراجہ اور اس کے دوستوں نے اہلِ علاقہ سے درخواست کی کہ اس وقت تک اسٹریٹ لائٹس کو بند رکھا جائے جب تک انڈے سے بچے برآمد نہ ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی کھمبے کے سوئچ بورڈ سے گاؤں کی بقیہ درجنوں اسٹریٹ لائٹس کو بجلی ملتی تھی۔

طالبعلموں نے اس کے لیے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی اور گھر گھر جاکر بھی لوگوں کو اس کے لئے تیار کیا۔ بعض لوگوں نے اسے احمقانہ قرار دیا اور بعض نے اس پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس طرح ایک چڑیا اور اس کے بچوں کو بچانے کا چھوٹا سا اقدم ایک مہم اختیار کرگیا۔ آخر کار دیہات میں موجود 100 سے زائد گھرانے اس پر راضی ہوگئے۔

اس کے بعد 35 روز تک مسلسل گاؤں کی اسٹریٹ لائٹس بند رہیں اور تب تک بند رہے گی جب تک بچے بڑے نہ ہو جائے۔ چڑیا کے بچوں کا گھونسلہ چھوڑتے ہی سوئچ بورڈ آن کردیا جائے گا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top