بدعنوانی کا جائزہ لینے والے عالمی ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سروے رپورٹ میں بھارت کو کرپشن کے حوالے سے ایشیا میں نمبر1 قرار دے دیا

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ براعظم ایشیا میں سب سے زیادہ 39 فیصد بدعنوانی بھارت میں پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 46 فیصد بھارتی سرکاری اداروں میں کام کروانے کے لیے رشوت دیتے ہیں جو کہ ایشیا میں سب سے زیادہ شرح ہے

رشوت ادا کرنے والے لوگوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو بتایا کہ رشوت دیے بغیر بھارت میں کوئی کام نہیں ہوتا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 17 ایشیائی ممالک کے 20 ہزار افراد سے سروے کیا گیا۔ جس میں معلوم ہوا کہ سب سے کم رشوت ستانی والے ممالک میں جاپان اور مالدیپ شامل ہیں۔

جس میں ان سے بنیادی سروسز کے چھ اداروں پولیس، عدالتیں، سرکاری ہسپتال، دستاویزات اور یوٹیلیٹی سے متعلق شعبوں کے بارے میں رائے مانگی گئی۔ 

بھارت کے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ پولیس سے رابطہ کرنیوالے 42 فیصد افراد کومٹھی گرم کرنا پڑتی ہے ، شناختی دستاویزات اور دیگر سرکاری کاغذات کے حصول کیلئے 41 فیصد کو رشوت دینا پڑی۔ 

شخصی تعلقات کا استعمال پولیس کیساتھ رابطے کیلئے 39 فیصد، دستاویزات کے حصول کیلئے 42 فیصد جبکہ عدالتوں سے رجوع کرنے کیلئے 38 فیصد کیا جاتا ہے ۔ یاد رہے جنوری میں ورلڈ اکنامک فورم کیلئے جاری اپنی رپورٹ میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس ‘‘کے حوالے سے 180 ملکوں میں بھارت کو 80 واں نمبر دیا تھا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top