ریور ویو روڈ اور مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں، کشیدہ صورت حال کے بعد پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی۔
ریور ویو، ائیرپورٹ روڈ سمیت گلگت شہر کےمختلف مقامات پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس نے ہوائی فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ اس دوران مختلف مقامات پر سڑکوں پر ، محکمہ جنگلات کے دفتر اور 4 سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
Situation in Gilgit right now. A local resident has shared these pictures. Clashes between workers of political parties erupted over recent elections. #Gilgit #GilgitBaltistanElections2020 #schools #Shafqat_Mehmood #GB pic.twitter.com/CqXKa2dXQe
— Zaigham ضیغم (@aviramza) November 23, 2020
ڈی آئی جی گلگت رینج وقاص احمد کےمطابق احتجاج کےدوران 20 سے 25 افراد نے شرپسندی کی، سی سی ٹی وی کی مدد سے تفتیش کاآغاز کر دیا گیا ہے۔
وقاص احمد نے کہا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے کچھ لوگوں کو شناخت کرلیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ حالات ابھی کنٹرول میں ہیں، اگر حالات دوبارہ بگڑے تو کرفیو بھی لگایا جاسکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں سب سے دلچسپ مقابلہ جی بی 2 میں ہوا جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار فتح اللہ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد سے صرف 2 ووٹوں کے فرق سے انتخاب جیتا تاہم پی پی پی نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کے بعد جی بی ٹو میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی لیکن اس میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار کی ہی جیت ہوئی۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار فتح اللہ خان اس بار 96 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے۔
جی بی ٹو کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار فتح اللہ خان کو 6 ہزار880 ووٹ ملے اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 6 ہزار 764 ووٹ لے کر کر دوسرے نمبر پر رہے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی جس میں شدت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے، مظاہرین نے سرکاری گاڑیاں و املاک نذر آتش کردیں۔
بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی امیدوار کو جتوانے کیلئے الیکشن کمیشن کا ریکارڈ تک غائب کر دیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے فرانزک کروانے سے قبل حلقہ دو کا رزلٹ دے کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ووٹ پیپلز پارٹی کے زیادہ ہوں اور زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے مظاہرین پر فائرنگ اور شیلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ شیری رحمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے کارکن گلگت بلتستان میں دھاندلی کے خلاف پرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ پرامن مظاہرین پر شیلنگ اور فائرنگ کرنا قابل مذمت ہے۔
شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک انصاف طاقت کی لالچ میں اندھی ہو چکی ہے۔ 126 دن ملک کو یرغمال کرنے والے پیپلز پارٹی کا پرامن احتجاج برداشت نہیں کرتے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے گاڑیاں جلا کر افراتفری پیدا کرنے کی سازش کی۔ چیف الیکشن کمشنر بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، وہ معاہدے مطابق ووٹوں کا فرانزک آڈٹ نہیں کروا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار حلقوں کی بنیاد پر ملک کو بند کرنے والے ہمارے مطالبے پر ایک حلقے کا فارنزک آڈٹ نہیں کروا رہے۔ ہم اب 2018ء کا دھاندلی ماڈل گلگت بلتستان میں نہیں چلنے دینگے۔ دھاندلی سرکار اب بےنقاب ہو چکی ہے۔ گلگت بلتستان کا امن خراب ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہونگے۔
دوسری جانب سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ گلگت میں الیکشن چوری ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر تشدد شرمناک ہے۔ گلگت میں جیالوں پر گولیاں اور شیلنگ وفاقی حکومت کا اندھا انتقام ہے۔ گلگت بلتستان کے متنازع انتخابات کے نتائج بھیانک نکلیں گے۔
مولابخش چانڈیو نے کہا کہ حساس علاقے میں عوام پر تشدد کرکے کس کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ سلیکٹڈ ہوش کے ناخن لیں، آگ سے کھیلنے کوشش بند کی جائے۔ گلگت حلقہ دو پر چیف الیکشن کمشنر نے فرانزک کا جو معاہدہ کیا تھا، وہ پورا کیا جائے۔ ووٹوں کا فرانزک کئے بغیر نتیجہ ظاہر کرنا دھاندلی کا ثبوت ہے۔
واضح رہے گلگلت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف کے 10 امیدوار کامیاب ہوئے اور 6 آزاد امیدواروں کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد یہ تعداد 16 ہوگئی ہے جب کہ انہیں ایم ڈبلیو ایم کی ایک سیٹ کی حمایت بھی حاصل ہے ، یوں پی ٹی آئی واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں