تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کو ریکوڈیک منصوبے کے 30 سالہ ریکارڈ کی چھان بین کے دوران ملزمان کیخلاف ناقابل تردید ثبوت مل گئے۔
بدھ کو نیب کے کوئٹہ دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں اسے نیب کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ اور بڑا کیس قرار دیا گیا ہے۔
نیب بلوچستان کے ترجمان کے مطابق بد عنوانی کے الزام میں کوئٹہ کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے اور اس میں مجموعی طور پر 26 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ترجمان نیب کے مطابق ملزمان نے ذاتی مفادات کےحصول کےلیے قومی مفادات کی دھجیاں اُڑا دیں، بدعنوان عناصر کی وجہ سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، 1993 میں چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر کا معاہدہ ہوا، بلوچستان حکومت کے افسران نے آسٹریلوی کمپنی کو غیرقانونی فائدہ پہنچایا۔
نیب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ کمپنی کو فائدہ دینے کیلئے مائینگ رولزمیں ترامیم اورذیلی معاہدے کیے گئے، اراضی الاٹمنٹ اوردیگرامور میں محکمہ مال کے افسران کی بےقاعدگیوں کا انکشاف بھی ہوا ہے جب کہ ملزمان کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ مدمیں مالی فوائد لینے کا اعتراف کرلیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور گواہان کے بیانات سے چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں، ٹی سی سی کے کارندے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے میں ملوث پائے گئے ہیں اور کرپٹ عناصرکی وجہ سے ریکوڈک منصوبے سے اربوں روپے کےفائدے کی بجائے نقصان ہوا۔
خیال رہے کہ ایک عالمی ثالثی عدالت نے جولائی 2019ء میں اس منصوبے کیلئے آسٹریلیا اور چلی کی مشترکہ مائننگ کمپنی کی لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پرچھ ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا تھا لیکن بعد میں پاکستان نے اس پر مئی 2021 تک حکم امتناع حاصل کیا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں