تین سالہ بچی الف پیرینچیک کو عمارت کے ملبے سے زخمی حالت میں زندہ نکال لیا گیا ہے۔
بچی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ملبے سے زندہ نکالے جانے والے زلزلہ زدگان کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔
یہ بچی 3 دن تک ملبے میں دبے رہنے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچ گئی۔ اس خوش نصیب بچی کی ماں اور دو بہنوں کو دو دن قبل ہی ریسکیو کر لیا گیا تھا۔
زلزلے سے تقریباً 58 گھنٹے کے بعد 14 سالہ لڑکی عدیل شیرین کو بھی ملبے سے زندہ نکالا گیا تھا۔ عدیل ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی صحت کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں اموات کی تعداد 79 تک پہنچ گئی ہے۔
اب تک 100 سے زائد افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔ ریسکیو ورکرز اب بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ملبے میں دبے لوگوں کے زندہ بچنے کی امید کم ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ 30 اکتوبر بروز جمعہ ترکی کے مقامی وقت کے مطابق دن 2 بج کر 51 منٹ پر ازمیر کی تحصیل سفر حصار سے 17 کلومیٹر کی مسافت پر کھلے سمندر میں 6.6 کی شدت سے زلزلہ آیا۔ زلزلے کی زیرِ زمین گہرائی 16.54 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں