وزیراعظم عمران خان ںے ڈیم پر جاری کام کا جائزہ لیا اور مزدوروں سے گفتگو کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم ملک کے لیے اہم ترین منصوبہ ہے۔ جہاں اس ڈیم سے پانی ذخیرہ اور بجلی بنے گی، وہاں اس کی وجہ سے تربیلہ ڈیم کی کارآمد معیاد میں اضافہ ہوگا۔ اس سے روزگار کے مواقع ملیں گے اور معیشت مزید مستحکم ہوگی۔
وزیر اعظم نے کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام سے اس علاقے میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کا دیامیر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ۔
— PTV News (@PTVNewsOfficial) November 1, 2020
چیرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے وزیر اعظم کو جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی۔
وزیر اعظم نے ڈیم پر جاری کام کا جائزہ لیا اور کام کرنے والے کارکنان سے گفتگو بھی کی۔ pic.twitter.com/IqYOOxKLZt
واضح رہے اس سے قبل عمران خان نے گلگت بلتستان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔
عمران خان نے کہا تھا کہ بلتستان کوصوبےکادرجہ دینےکافیصلہ کیا جبکہ پاکستان کیلئے مضبوط فوج کا ہونا ضروری ہے۔
اد رہے کہ پاکستان چین کی مدد سے یہ منصوبہ بنا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے رواں سال 15 جولائی کو دیامربھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔
افتتاح کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہ دینا پاکستان کی غلطی تھی۔ یہ فیصلہ چالیس پچاس سال پہلے کیا گیا تھا اور اب اس منصوبے پر کام شروع ہو رہا ہے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کرسکے۔
ادھر حکومت پاکستان کو امید ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 16000 سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔
Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں