بھارتی پنجاب میں زہریلی شراب پینے سے 80 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 200 شہریوں کی حالت غیر ہے۔ واقعہ پر وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ یہ ہلاکتیں زہریلی شراب پینے سے صرف چند دنوں میں واقع ہوئیں۔
زہریلی شراب پینے سے اموات کے واقعات شمالی ریاست کے 3 اضلاع میں پیش آئے۔ پولیس نے 25 افراد کو حراست میں بھی لے لیا۔ ایک اہلکار کے مطابق گورداسپور ضلع میں 11افراد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق امرتسر میں 12 اور ترن تارن ضلع میں 63 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آسام کے علاقے گولہ گھٹ میں زہریلی شراب پینے سے 55 افراد ہلاک ہوئے جب کہ جورہٹ میں 25 افراد زہریلی شراب کا شکار بنے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔
بھارتی پولیس کے مطابق دو افراد گزشتہ روز ہلاک ہوئے تھے جبکہ 36 افراد آج دوران علاج دم توڑ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق تمام افراد نے سینیٹائزر کا استعمال کیا جو ان کی ہلاکت کی وجہ بنا۔ تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب محکمہ ایکسائز نے بھی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے زہریلی شراب کی فروخت کی روک تھام میں ناکامی پر دو مقامی افسران کو معطل کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی ہے۔
حالیہ دنوں میں دیگر اموات پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے کچھ ثابت نہیں ہوسکا کیونکہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ دو ہفتے قبل اتر پردیش اور اتر کھنڈ میں ایک ہی دن میں زہریلی شراب پینے سے 100 سے زائد افراد اپنی جانوں سے چلے گئے تھے جب کہ ان علاقوں میں سالانہ زہریلی شراب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں