احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز سے متعلق دائر ضمنی ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی اور 27 اگست کو ریفرنس کے گواہوں کو طلب کر لیا۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچوہدری نے رمضان شوگر مل ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ صدر پاکستان نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کر رکھا ہے، شہباز شریف نے اسلام آباد جانا ہے لہذا عدالت سے ان کو جانے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ شہباز شریف پر فردجرم عائد ہونی ہے، وہ ادھر ہی رہیں جب کہ عدالت نے نیب کورٹ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ زیر حراست حمزہ شہباز کہاں ہے جس پر نیب کورٹ نے کہا کہ حمزہ شہباز راستے میں ہیں وہ آرہے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔

شہباز شریف کا عدالت میں مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں گنہگار ہوں گا مگر عوام کی خدمت میں کمی نہیں چھوڑی، پنجاب کے عوام کی 10 سال خدمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن جو چاہے بولیں مگر انہیں اپنے دلوں میں پتہ ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کی خدمت کے لیے سرکاری دورے کیے مگر کروڑوں روپے کا ٹی اے ڈی اے چھوڑا، اپنی گاڑی کے لیے پیٹرول کبھی نہیں لیا۔

شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میری کمر میں درد ہے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا، مجھے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھی جانا ہے لیکن میں عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آج پیش ہو گیا۔

 شہباز شریف وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ رمضان شوگر ملز میں فرد جرم عائد نہ کی جائے، آج صدر پاکستان نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر رکھا ہے، عدالت نے کہا کہ آج فرد جرم عائد ہونی ہے حمزہ شہباز آتے ہیں تو کارروائی کرتے ہیں۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کے لیے شہباز شریف پیش ہوئے ہیں، فرد جرم کے حوالے سے ابھی دلائل دینا ہیں، یہ کیس بد نیتی پر مبنی ہے، مجھے کیس کی تیاری کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ بہت موقع دے چکے ہیں آپ بحث کریں، فرد جرم آج ہی عائد کریں گے، آپ دلائل دیں۔

عدالت نے فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی جس پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے صحت جرم سے انکار کیا جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو طلب کرلیا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top