عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نےپاکستان کی معاشی صورتحال مستحکم قرار دیدی۔
وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ پاکستان کی بی تھری ریٹنگ برقرار رکھی گئی ہے اور یہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت کی ٹھوس پالیسیوں کا اعتراف ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی جانب سے جی 20 ممالک سے قرضے مؤخرکرانےکیلئےرجوع کرنے پرریٹنگ ڈاؤن گریڈ کرنے کا جائزہ لینا شروع کیا تھا تاہم صورت حال میں بہتری کو دیکھتے مستحکم معاشی آؤٹ لک برقرار رکھی گئی ہے۔
وزارت خزانہ نےبتایا ہےکہ موڈیز نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مستحکم قرار دیتے ہوئے بی تھری ریٹنگ برقرار رکھی ہے۔ موڈیز نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سال 2021 میں پاکستان کی معاشی پیداوارمثبت رہےگی۔
موڈیز نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان نے مختلف معاشی شعبوں میں بہتری کی ہے جن کا اثرات اچھے آئیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاشی شرح نمو 1 سے 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ موڈیز نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اب بھی قرضے دینے والے نجی شعبے کو محدود پیمانے پر نقصانات کے امکانات ہیں لیکن بی تھری ریٹنگ محدود پیمانے ہونے والے نقصانات کو تحفظ دیتی ہے۔
موڈیز کی جانب سے پاکستان کے لیے مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت اگلےایک سے ڈیڑھ سال تک بیرونی مالی ضروریات پوری ہونگی۔ کرونا کی وجہ سے کچھ عرصے معاشی سرگرمیوں ماند رہنے کا خدشہ ہے لیکن اس میں بہتری آئے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے،شرح سود میں مہنگائی میں کمی کے تناسب سے ردوبدل متوقع ہے جبکہ رواں مالی سال قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے 90 فیصد کی بلند سطح پر رہے گا اور مالی خسارہ جی ڈی پی کے 8 سے 8.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق موڈیز کا اقدام پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں پر اعتماد ہے، موجودہ مشکل حالات میں موڈیز کا پاکستان پر اعتماد خوش آئند ہے، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ آﺅٹ لک جائزہ سے مستحکم کردی ہے، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی بی تھری پر برقرار رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ موڈیز نے پاکستان کی جانب سے جی 20 ممالک سے قرضے مؤخرکرانےکیلئےرجوع کرنے پرریٹنگ ڈاؤن گریڈ کرنے کا جائزہ لینا شروع کیا تھا تاہم صورت حال میں بہتری کو دیکھتے مستحکم معاشی آؤٹ لک برقرار رکھی گئی ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں