وزیراعظم عمران خان نے جموں وکشمیرکے مسئلے پربحث کرانے پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خیرمقدم کیاہے اوربھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہارکرنے پرکونسل کے ارکان کاشکریہ ادا کیا۔
مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کاایک سال مکمل ہونے کے موقع پرپندرہ رکنی عالمی ادارے نے پاکستان کی درخواست پربند کمرے میں اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں مقبوضہ وادی کی صورتحال پرغور کیا گیا اورموجودہ صورتحال اورپاکستان اوربھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے کام کے متعلق اقوام متحدہ سیکرٹریٹ کی بریفنگز کوسنا گیا۔
وزیراعظم نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ میں جموں وکشمیر کے تنازعے پر دوبارہ بحث کرانے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خیرمقدم کرتا ہوں اور یہ تنازعہ گزشتہ 70برس سے زائدعرصے سے عالمی ادارے کے ایجنڈے پرموجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے منشورکے مطابق سلامتی کونسل پرنہ صرف عالمی امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائدہوتی ہے بلکہ اپنی قراردادوں پرعملدرآمدیقینی بنانابھی اس کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل کے ارکان کاشکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیاہے ،کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کامشورہ دیاہے، بین الاقوامی قانون کااحترام کرنے کی ضرورت اورتنازعہ کاپُرامن حل تلاش کرنے پرزوردیاہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے کے بارے میں پاکستان کاموقف بڑاواضح اورغیرمبہم رہاہے کہ یہ تنازعہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیاجائے جن میں ایک آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔
انہوں نے اس پختہ عزم کااظہارکیاکہ پاکستان کشمیری عوام کی ان کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول تک ہرممکن حمایت جاری رکھے گا۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top