سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔
دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
عینی شاہد کے مطابق دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا، دھماکے کے وقت ایک ہزار سے بارہ سو افراد مدرسے میں موجود تھے جب کہ مدرس شیخ صاحب محفوظ رہے۔
مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں۔
دھماکے کے بعد ہال میں دھواں، چیخ و پکار اور افرا تفری پھیل گئی، بھگڈر مچ گئی اور کئی طلبا زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے زخمی طلبا کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا، زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مدرسے میں 10 سے لیکر 35 سال تک کے طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ دھماکے کے وقت طلباء کو درس دینے والے شیخ رحیم اللہ حقانی محفوظ رہے۔ مہتمم مدرسہ عدنان حقانی نے کہا کہ ساڑھے 6 سو طلبا مدرسے میں زیر تعلیم تھے، ٹارگٹ طلباء اور شیخ رحیم اللہ تھے۔
عمران خان نے اس افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
وزیر اعظم عمران خان کی پشاور دھماکے کی شدید مذمت
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) October 27, 2020
دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار۔ وزیر اعظم کی افسوسناک واقعے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا۔ pic.twitter.com/loOUJASIZx
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پشاور کی دیرکالونی میں دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ دھماکا ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کارروائی ہے، اس طرح کے حملے امن کے نفاذ کے لیے ہماری کوششوں کو روک نہیں سکتے۔
دیر کالونی پشاور کے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ دھماکہ ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ اس طرح کے حملے امن کے نفاذ کے لئے ہماری کوششوں کو روک نہیں سکتے۔ ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا
— Asad Qaiser 🇵🇰 (@AsadQaiserPTI) October 27, 2020
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے لکھا کہ پشاور مدرسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
پشاور مدرسے میں دھماکےکی شدید مذمت کرتے ہیں۔ تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلباءپرحملہ کرنےوالوں کاانسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے۔شہداء کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) October 27, 2020
واقعے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں۔
1. #Peshawar
— Taimur Khan Jhagra (@Jhagra) October 27, 2020
Just back from a quick visit to Lady Reading Hospital, following the blast at a Madrassa in Dir Colony, Peshawar.
Talked to the Chief Secretary, CCPO and the DC, as well as hospital administration. LRH has received 70 injured, with 7 patients dead on arrival.


Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں