پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 8 افراد شہید اور 95 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔

دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

عینی شاہد کے مطابق دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا، دھماکے کے وقت ایک ہزار سے بارہ سو افراد مدرسے میں موجود تھے جب کہ مدرس شیخ صاحب محفوظ رہے۔

مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں۔

دھماکے کے بعد ہال میں دھواں، چیخ و پکار اور افرا تفری پھیل گئی، بھگڈر مچ گئی اور کئی طلبا زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے زخمی طلبا کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا، زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مدرسے میں 10 سے لیکر 35 سال تک کے طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ دھماکے کے وقت طلباء کو درس دینے والے شیخ رحیم اللہ حقانی محفوظ رہے۔ مہتمم مدرسہ عدنان حقانی نے کہا کہ ساڑھے 6 سو طلبا مدرسے میں زیر تعلیم تھے، ٹارگٹ طلباء اور شیخ رحیم اللہ تھے۔

عمران خان نے اس افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پشاور کی دیرکالونی میں دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ دھماکا ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کارروائی ہے، اس طرح کے حملے امن کے نفاذ کے لیے ہماری کوششوں کو روک نہیں سکتے۔

دیر کالونی پشاور کے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ دھماکہ ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ اس طرح کے حملے امن کے نفاذ کے لئے ہماری کوششوں کو روک نہیں سکتے۔ ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا

 وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے لکھا کہ پشاور مدرسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔

 واقعے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top