تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کی جانب سے متنازع بیان کے بعد لاہورکی مختلف شاہراہوں پر ان کیخلاف بینرزلگ گئے ، بینرز اور اسٹیمرز ایازصادق کے حلقےکی عوام کی جانب سےلگائےگئے۔
بینرزپرایازصادق کوپاکستان کامیرصادق اورمیرجعفر قرار دیا گیا ہے اور ان کےخلاف کارروائی کا مطالبہ بھی درج ہیں جبکہ بینرز پر ایازصادق کے ساتھ نریندر مودی اور ابھی نندن کی بھی تصاویر آویزاں ہیں۔
دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر کے باہر گھٹیاقسم کے بینرز لگانے کےخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی ہے۔
قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان سابق سپیکر قومی اسمبلی مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما سردار ایاز صادق کے گھر کے باہر گھٹیاقسم کے بینرز لگانے کی شدید مذمت کرتا ہے، صوبائی وزیرعلیم خان کی جانب سے ہر حرکت کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔
قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر سردار ایاز صادق کو حکومتی اراکین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف ایک شہری نے مقدمے کے لیے درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ سردار ایاز صادق کا معاملہ معافی سے آگے جا چکا ہے اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی ایاز صادق پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ریاستی اداروں کے خلاف بات کر رہے ہیں انہیں بھارت چلے جانا چاہیے۔
اب لاہور کی سڑکوں پر بھی ایاز صادق کے خلاف نعرے بازی والے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔
Meanwhile somewhere in Lahore 😍😍
— Dr Nabeel Hassan (@DrNabilOfficial) October 31, 2020
#سوری_زبان_پھسل_گئی_تھی pic.twitter.com/UytGNJ4btH
واضح رہے کہ چند روز قبل سابق سپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردارایاز صادق نے قومی اسمبلی میں دعویٰ کیا تھاکہ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے تو ابھی نندن کو گھٹنے ٹیک کر واپس کیا گیا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں