سینیٹر فیصل جاوید نے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بھجوا دیا جس میں انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے خاتم النبیّین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی حمایت کی۔
کنوینر شپ سے مستعفی ہونے کے ساتھ ساتھ فیصل جاوید خان نے چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ اس گروپ کو ہی تحلیل کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر کے اس قبیح عمل کی حوصلہ افزائی سے یورپ میں اسلاموفوبیا کو مزید تقویت ملے گی، ان کے اس اقدام سے انسانیت تقسیم کا شکار ہوگی اور شدت پسندی بڑھے گی۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی نشاندہی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت تمام عالمی فورمز پر اسلاموفوبیا کا معاملہ اٹھایا تھا جبکہ نازی ازم کی طرح مقدس ہستیوں کی ہتک و توہین کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی وقت کا تقاضا ہے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم، فرانسیسی صدر کے اقدام پر واضح اور دوٹوک مؤقف اپنا چکے ہیں اور انہوں نے دنیا پر واضح کیا ہے کہ فرانسیسی صدر کے اقدامات انسانیت کو نازی نظریے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مخالف بیانات اور مقدس ہستیوں کی توہین انسانیت کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرے گی اور شدت پسند خیالات کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔
پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور گزشتہ روز پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جبکہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں