سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 'کسی رہنما کی خوبی یہ ہوتی ہے وہ انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرے جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے کیا'۔
قائد کی علامت یہ ہےکہ وہ تقسیم کی بجائے لوگوں کومتحد کرتا ہےجیسا کہ نیلسن منڈیلا نےکیا۔ یہ وقت ہےجب صدر میکرون دوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے (جس سےبنیادپرستی کوسازگارماحول میسر آتا ہے) کی بجائے انکے زخموں پر مرہم رکھتے اور شدت پسندوں کو جگہ دینے سے انکار کرتے۔
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 25, 2020
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت تھا کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے انتہاپسندی سے روکتے، کیونکہ تقسیم ہی بنیاد پرستی کا سبب بنتی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ فرانسیسی صدر نے اسلام کو سمجھے بغیر نشانہ بنا کر نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے اور جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا، انتہاپسندی کو فروغ دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرنے والے دہشت گرد، چاہے وہ مسلمان ہو، سفید فام یا نازی، پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کو نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ کچھ روز قبل فرانس میں ایک استاد کو گستاخانہ خاکوں کی ترویج کے مکروہ عمل کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جاری ایک بیان میں صدر میکران نے سخت تعصب پسندی اور اسلام مخالف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی تھی کہ اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی فرانسیسی ہم منصب کے اس بیان کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انھیں دماغی علاج کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا میں ایسے شخص کے بارے میں کیا بات کی جا سکتی ہے جو یگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں سے ایسا برتاؤ کرتا ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں