متحدہ عرب امارات کا پہلا خلائی تحقیقاتی مشن بدھ  15 جولائی کو مریخ کی طرف روانہ ہوگا، تاہم اس کا امکان ہے کہ اگر موسم سازگار نہ ہوا تو  پروگرام یکم اگست تک ملتوی ہو سکتا ہے۔

 یہ سرخ سیارے کی دنیا کے راز دریافت کرنے کے لیے  پہلا خلائی عرب مشن ہے۔

اماراتی ویب سائٹ کے مطابق اماراتی خلائی مشن مریخ کا موسم دریافت کرنے اور آئندہ 100 برس کے دوران وہاں انسانی بستی بسانے سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

خلائی مشن جاپان کے خلائی سینٹر ٹینگا شیما سے سفر کا آغاز کرے گا، اس کا حجم فور وہیل گاڑی جتنا ہے اور وزن 1350 کلو گرام ہے۔ اسے پائلٹ کے بغیر خود کار سسٹم کے تحت کنٹرول کیا جائے گا۔

اس خلائی مشن کو العمل (ہوپ) کا نام دیا گیا ہے، مشن کو مریخ تک پہنچنے میں 7 ماہ کا وقت لگے گا، اور یہ مریخ تک پہنچنے کے لیے 493 ملین کلو میٹر کا سفر طے کرے گا، العمل (ہوپ) خلائی مشن مدار میں 687 دن تک رہے گا۔

خیال رہے کہ مریخ کا ایک سال کرہ ارض کے 687 دن کے برابر ہوتا ہے، اماراتی خلائی مشن العمل (ہوپ) تین ٹیکنالوجی وسائل اپنے ہمراہ لے کر جا رہا ہے۔

خلائی مشن پر ریڈ ایکسرے سسٹم نصب ہے، جس سے سال بھر مریخ کے بدلتے ہوئے موسموں کی مکمل تصویر لے گا، یہ مریخ کے زیریں فضائی غلاف کی پیمائش کرے گا اور درجہ حرارت کا تجزیہ بھی کرے گا۔

خلائی مشن میں انتہائی حساس کیمرہ نصب کیا گیا ہے، یہ اوزون کے حوالے سے دقیق ترین معلومات حاصل کرے گا، جبکہ 43 ہزار کلو میٹر تک کی مسافت کے فاصلے سے آکسیجن اور ہائیڈروجن کی مقدار ناپنے والا آلہ بھی مشن میں نصب کیا گیا ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top