اسلام آباد : ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا ہے کہ پاکستان میں گرفتار اور سزا یافتہ بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے ایجنٹ کلبھوش نے اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا۔ پاکستان نے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو ایک مرتبہ پھر قونصلر رسائی کی پیشکش کر دی،ڈی جی جنوبی ایشیاء و سارک زاہد حفیظ کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، عالمی دنیا کو ثبوت فراہم کر دئیے۔
اور اس کے بجائے انہوں نے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا، سارک زاہد حفیظ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اپنی عالمی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ اور پاکستان آئی سی جے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے تیار ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں جو کیس پاکستان نے جیتا تھا۔
اس کے فیصلے کے اہم نکات میں یہ بات شامل تھی کہ ویانا کنویشن برائے قونصلر روابط کی دفعہ 36 کے تحت کلبھوشن یادیو کو ان کے حقوق کے بارے میں بتایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ بھارتی قونصل افسران کو کلبھوشن یادیو سے بات چیت کرنے کی اجازت اور قونصلر رسائی دی جائے تا کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے لیے قانونی نمائندگی کا بندوبست کریں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی اٹارنی جنرل احمد عرفان نے کہا کہ پاکستان کا قانون فیصلے کا ازسرنو جائزہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔
پاکستان نے 17 جون2020 کو کمانڈر یادیو کو کہا تھا کہ سزا کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کرے تو اسے قانونی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ پاکستان میں کسی وکیل سے ہندوستانی حکومت نے کمانڈر یادیو کی اپیل کی پیروی کیلئے رابطہ نہیں کیا۔
کمانڈر کلبھوشن یادیو، قانونی طور پر منظور شدہ شخص یا بھارتی حکومت، ہائی کورٹ میں درخواست دے سکتے ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں