کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا ملیر کی 253 ایکڑ زمین پر قبضے اور بیچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

پی ٹی آئیکےسینئر رہنما حلیم عادل شیخ کے ستارے گردش میں، اینٹی کرپشن کے بعد اب نیب نے بھی ان کے خلاف گھیرا تنگ کرلیا ہے۔ 

حلیم عادل شیخ پر ملیر کی 253 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضے اور غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام ہے، نیب نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو تمام متعلقہ کاغذات 27 جولائی تک نیب میں جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے، نیب لیٹر میں اینٹی کرپشن کی جانب سے کی جانے والی انکوائری، تمام زمینوں کا رقبہ اور پیمائش کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ پر مبینہ منی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایسٹ ضمیر عباسی نے گزشتہ برس حلیم عادل شیخ کے خلاف تحقیقات کرکے چیف سیکریٹری سے مقدمے کی اجازت طلب کی تھی، اینٹی کرپشن کی رپورٹ میں زمین پر قبضے اور فروخت میں حلیم عادل شیخ، ان کے بڑے بھائی، بیٹے، ڈی سی ملیر، اور محکمہ ریونیو کے دیگر افسران کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔

اُدھر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مجھے نیب کا کوئی نوٹس نہیں ملا، جن زمینوں کی بات کی گئی انکی تمام دستاویزات کلیئر ہیں۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top