وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی عزیر بلوچ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ نامکمل ہے، چیف جسٹس اس کا از خود نوٹس لیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر علی زیدی نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف جرائم کا ذکر کیا گیا، یہ نہیں بتایا گیا کس کے کہنے پر جرم ہوئے، عزیر بلوچ نے کہا آصف زرداری اور فرالی تالپور کے کہنے پر سر کی قیمت ختم کی گئی، عزیر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا انکشافات کے بعد انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ذوالفقار مرزا کے بعد اویس ٹپی عزیر بلوچ سے کام لیتا تھا۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ تبدیلی پر چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔ انہوں نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ 35 صفحات پر مشتمل جب کہ اصل رپورٹ 43 صفحات کی ہے، ایک جے آئی ٹی پر 4 اور دوسری پر 6 لوگوں کے دستخط ہیں۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی کہ ملک کے سب سے بڑے شہرمیں جو قتل وغارت ہوئی، اس پر 184 تھری کے تحت ازخود نوٹس لیں۔علی زیدی نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے پر اُن کے ساتھ ہیں۔ علی زیدی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹس میں ملزمان نے لوگوں کو مارنے کا تو اعتراف کیا لیکن جرم کس کے کہنے پر کیا یہ نہیں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے جو رپورٹ شائع نہیں کی، اس میں سیاسی تعلقات کا ذکر موجود ہے، اصل رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ پیپلزپارٹی رہنماؤں کے کہنے پر قتل کیے گئے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں