جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر میں جمع کرایا گیا بیان دستاویزات سمیت میڈیا کو جاری کردیا، لیکن دراصل نوٹس کیوں وصول نہیں کیا؟ ایسا انکشاف کہ آپ کو بھی دکھ ہوگا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جمع کرایا گیا بیان دستاویزات کی کاپیوں سمیت میڈیا کو جاری کردیا اور ساتھ ہی موقف اپنایا کہ والد کی وفات کی وجہ سے وہ نوٹس وصول نہیں کر پائے، جس کی وجہ سے مخالفین کو بے بنیاد پراپیگنڈا کرنے کا موقع ملا ۔
صحافی اسد علی طور نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹو کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ " جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے تمام دستاویزات سمیت بیان میڈیا کو جاری کردیا جو گزشتہ روز انہوں نے ایف بی آر میں جمع کرایا تھا"۔
قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید لکھا کہ " ایسی چیز یں میڈٰیا میں ہی رپورٹ ہورہی ہیں، جو میں نے قیاس کے طور پر اپنے جواب میں کہی ہیں لیکن میں نے جو نہیں کہا اور میرا جواب دبا گیا گیا، میرے پاس اس کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں جواب میڈیا کو جاری کروں۔ میں نے 6 صفحات پر مبنی جواب ایف بی آر میں جمع کرایا، جو میرے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا روکنے کے لیے کافی ہے، میری درخواست ہے کہ میری ذاتی معلومات اور اکائونٹس کی تفصیلات عوام کیساتھ شیئر نہ کریں لیکن سچ تک پہنچنے کے لیے میرے جواب کا متن عوام تک پہنچائیں"۔


Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں